دنیا کی زندگی | زندگی کا مقصد

انسان اس دنیا میں آتا ہے، زندگی کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے، یہ دو دن کا مختصر سفر طے کرکے کر بلآخر مر جاتا ہے، اور اللہ کی طرف واپس لوٹتا ہے، اور ہمیشہ کے لیے فنا ہوجاتاہے۔ کچھ لوگ ہوتے ہیں، جن کو اس دنیا میں زندگی کے مزے لینے، عیاشیاں کرنے، دولت، شہرت اور عزت حاصل کرنے کی خواہش ہوتی ہے، اور کئیوں کو مل بھی جاتا ہے، لیکن یہی لوگ ہوتے ہیں جنکو انکی زندگی کے اصل مقصد کا پتہ ہی نہیں ہوتا، اور یہ لوگ مسلسل گمراہیوں میں ڈوبے رہتے ہیں، اور دنیا کی یہ عیاشیاں اور لطف ان کو بلآخر موت کی شکل میں بغیر اصل مقصد پاتے ہوے اس دنیا سے رخصت کر دیتی ہے۔ جبکہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنکو اس دنیا سے کوئ غرض نہیں ہوتی، وہ ان سب میں سے کچھ بھی نہیں چاہتے لیکن صرف زندگی میں خوشی اور سکون کے طلب گار ہوتے ہیں، یہ لوگ زندگی کے مقصد کو سمجھنا چاہتے ہیں، انکو حق کی تلاش ہوتی ہے، اور جب اصل مقصد پالیتے ہیں تو دنیاوی عیاشیوں سے پڑدہ کر کے اپنے مقصد کے حصول میں لگ جاتے ہیں، اور یہی لوگ ہوتے ہیں جو کہ نہ صرف اس دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی کامیابی پاتے ہیں۔



ہر انسان کے لیے پیدا ہونےاور عقل و شعور سنبھالنے کے بعد ضروری ہے، کہ وہ اس چیز کو سمجھے کہ اس دنیا کی زندگی اصل میں کیا ہے؟ اور اس کے زندگی کا اصل مقصد کیا ہے؟


اس کا پتہ ہمیں تب لگ سکتا ہے، جب ہم اس معاملے کو سوچے، کہ ہمیں کس نے پیدا کیا؟ ہمارا پیدا کرنے والا کون ہے؟ اس نے ہمیں کیوں اور کیسے پیدا کیا؟ اور ہم کیسے اس دنیا میں آۓ؟

ایک مثال یہ ہے، کہ انسان مختلف قسم چیزوں کو بناتا ہے، جیسا کہ کمپیوٹر، موبایل، جہاز، گاڑی، موٹر سائیکل، پنکھا، مکان وغیرہ وغیرہ۔۔۔ یہ ساری چیزیں انسان نے بنائ، لیکن کس لیے؟ کسی خاص مقصد کے لیے، ان سب کے پیچھے مقصد ہے، اور وہ یہ کہ یہ چیزیں انسانوں کے لیے سہولت اور بڑے فائدے کا باعث ہے، اب یہ مقصد کون بتاتا ہے، یہ مقصد آپکو وہ بتاتا ہے، جو اس چیز کا بنانے والا ہوتا ہے، کہ اس چیز سے آپ یہ کام لے سکتے ہیں، یہ چیز آپکو یہ سہولت دے گی۔

بلکل اسی طرح اگر ہم سوچے، کہ ہمیں کس نے بنایا؟ کیوں بنایا؟ اور پھر کیوں یہ دنیا اور یہ زندگی دی؟ ہمیں ایسا وجود دیا؟ وہ کون ہے آخر؟ کیسے ایسا زبردست جسم بنا سکتا ہے کوئ جو کہ ہر قسم کی صلاحیتیں رکھتی ہو؟ اور پھر اس نے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا، ان سب کے پیچھے جو مقصد ہے، وہ انسانوں کی زندگی کا اصل مقصد ہے۔

اس میں کوئ شک نہیں کہ سب انسانوں کو اللہ تعالی نے پیدا کیا، اور دنیا میں بھیجا، وہ آے زندگیاں اور چلے گئے، اسی طرح ہم۔سب کو بھی اللہ نے پیدا کیا ہے، اور اس دنیا میں بھیجا ہے۔

اب اگر ہم نے یہ جاننا ہے، کہ ہماری زندگی کا اصل مقصد کیا ہے، جو ہمارے لیے جاننا سب سے اہم اور ضروری ہے۔ اسکے لیے ہمیں اپنے بنانے والے، ہمیں وجود میں لانے والے، ہمارے خالق سے جاننا ہوگا، کہ کیا مقصد ہے۔

اور ہمارا خالق، اللہ نے ہمیں یہ مقصد پہلے سے بتایا ہوا ہے، کہ وہ مقصد کیا ہے، وہ مقصد ایک کتاب میں لکھا ہوا محفوظ ہے، جسے قران کہتے ہیں، جو کہ اللہ نے اپنے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا۔ اس کے علاوہ یہ مقصد اپنے خالق کی عبادت ہے، اس کے احکامات کو ماننا، اور اس پر عمل کرنا ہے، اس کے بھیجے گئے انبیاء پر ایمان لانا ہے، اور اس گواہی کو تسلیم کرنا ہے، کہ اللہ کے سوا کوئ عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کا بندہ اور رسول ہے۔

ہمارے خالق اللہ کی طرف سے ہمیں صاف حکم ہے، کہ میری بندگی کرو، میرے احکامات یعنی قران کو مانو، اس میں سوچو، اس سے سیکھو، اور میرے رسول کی زندگی اور مبارک سنت کو اپناو، اس کے تعلیمات پر عمل کرو، تو تم لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کامیاب ہوجاؤ گے، نہ کہ صرف 
اس دنیا میں، بلکہ آخرت کی دائمی زندگی میں بھی۔

یہی زندگی کا اصل مقصد ہے، اور یہی حقیقت ہے۔

اب دنیا میں مختلف قسم کے مذاہب ہیں، جو کہ اپنے اپنے طور طریقوں کے مطابق عبادت کرتے ہیں، اپنے مذاہب کے مطابق مختلف قسم کے اپنے خالقوں کو مانتے ہیں۔ لیکن اس میں کوئ شک نہیں کہ خالق صرف ایک ہے، اور وہ ہے صرف اللہ کی زات، جس کا کوئ شریک نہیں، نہ وہ کسی سے پیدا ہے، اور نہ ان سے کوئ پیدا ہے، وہ صرف ایک اکیلا ہی ہے، وہی سب پر قادر ہے، جو اس دنیا کی نظام کو چلا رہا ہے، اللہ نے مختلف ادوار میں ان مذاہب اور ان لوگوں کی رہنمائ کے لیے اپنے پیغمبر بھیجے، تاکہ انکو انکے اصل خالق اور زندگی کے مقاصد اور تعلیمات کے بارے میں آگاہ کرے۔

ان یہ ہر انسان کے اوپر منحصر ہے، کہ وہ اس مقصد کو جان سکتا ہے، یا نہیں، اگر جاننا چاہتا ہے، تو اسے اپنے خالق حقیقی کی طرف جانا ہوگا، اس کے احکامات کی طرف جانا۔ہوگا، اس کے پیغمبروں کی تعلیمات سے سیکھنا ہوگا، کیونکہ وہی بتاے گا، کہ۔اصل زندگی کیا ہے، کیوں ہم دنیا میں آتے ہیں؟ کیا ہم اپنی زندگی، اپنے وجود میں آنے کی اصل مقصد کو جانتے ہیں یا نہیں، اسکو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا نہیں۔ کیونکہ یہی مقصد ہے، جس نے اس کو جان لیا، بے شک وہ دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوگا۔

ہمارا خالق اللہ ہمیں بتاتا ہے، کہ میری عبادت کرو، اور اس زندگی اور دنیا کے حصول میں نا لگو، کیونکہ یہ زندگی محض ایک دھوکہ ہے۔

اللہ قران میں کہتا ہے۔۔۔

اور دنیاوی زندگی تو ایک کھیل تماشے کے علاوہ کچھ نہیں، اور یقین جانو جو لوگ تقوی اختیار کرتے ہیں، ان کے لیے آخرت والا گھر کہیں زیادہ بہتر ہے، تو کیا اتنی سی بات تمھارے عقل میں نہیں آتی۔

اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سامان ہے۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔۔۔

دنیا کی مثال آخرت کے مقابلے میں ایسا ہے، جیسا کہ تم میں سے کوئ اپنی انگلی سمندر میں ڈالے، اور پھر دیکھے کہ کتنا پانی انگلی پر لگا ہے۔

دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔

دنیا مومن کے لیۓ جیل اور کافر کے لیۓ جنت ہے۔

میں نے کبھی کوئ ایسا نہیں پایا، جس نے آخرت کی زندگی کے لیۓ کوشش کی ہو اور اسے دنیاوی کامیابی نا ملی ہو، اور میں نے کبھی ایسا کوئ نہیں پایا، جس نے دنیاوی زندگی کے لۓ کوشش کی ہو اور اسے آخرت کی زندگی میں سے کوئ حصہ ملا ہو۔

۔۔۔ایک دفعہ حضرت عیسی علیہ سلام اپنے ساتھیوں کے ساتھ سفر پر نکلے، جب وہ راستے میں جارہے تھے، تو انہیں ایک جگہ پر قیام کرنا پڑا، ان کو بھوک لگی تھی، تو ان سب کے پاس جو بھی کچھ رقم تھی انہوں نے اکٹھی کی اور ان میں سے ایک شخص کو دے دی، اور کہا جاو اور قریبی بازار سے کھانے کے لیے کچھ لاو، لہذا وہ شخص چلا گیا، بازار جا کر جب معلوم کیا، تو ان پیسوں سے انکو صرف تین روٹیاں ملی، وہ سوچنے لگا کہ ہم بندے زیادہ ہیں اور روٹیاں صرف تین، اس نے ایک روٹی اسی جگہ پر کھا لی، اور دو روٹیاں لاکر عیسی علیہ سلام کو دے دی، عیسی علیہ سلام نے پوچا کہ تیسری روٹی کس نے کھا لی؟ اس نے جواب دیا کونسی تیسری روٹی؟ روٹیاں تو صرف دو ہیں، عیسی علیہ سلام۔نے پھر پوچا، اس نے قسم کھا کر پھر بتایا کہ روٹیاں صرف دو ہیں جو دیے گۓ پیسوں سے لایا ہوں، لہذا سب بھوکے تھے، اور ویہاں سے روانہ ہوے، تو راستے میں انہوں نے ایک ہرن کو شکار کیا، اور اس کا گوشت سب نے کھا لیا، یہاں تک کہ صرف ہڈیاں رہہ گئ، اب عیسی علیہ سلام نے اس ہرن کو حکم دیا، اور وہ دوبارہ زندہ ہوکر بھاگ نکلی۔ سب دیکھ کر حیران تھے، عیسی علیہ سلام نے اس شخص سے پوچا، کہ تجھے اس اللہ کی قسم جسنے اس ہرن میں دوبارہ روح ڈالی، بتاو، تیسری روٹی کہاں ہے؟ یہ شخص اب بہت گھبراہٹ میں تھا لیکن اس شخص نے پھر کہا، کہ مجھے نہیں معلوم آپ کیا کہ رہے ہیں، روٹیاں صرف دو تھیں۔ اب وہ دوبارہ وہاں سے روانہ ہوگۓ، راستے میں ایک جگہ پر عیسی علیہ سلام نے کچھ کیچڑ اٹھایا اور اسے زمین پر پھینک دیا، اور اس نے سونے کے تین بڑے سکے بن گۓ، یہ شخص دیکھ کر حیرت میں مبتلا ہوا، اور خوشی سے جھوم اٹھا، اب عیسی علیہ سلام نے اس سے پوچا، کہ بتا تیسری روٹی کس نے کھا لی؟ اگر تو بتاے گا، تو یہ ایک سکہ میرا، ایک تمھارا، اور یہ تیسرا سکہ اسکا جس نے وہ روٹی کھائ ہے، اب اس شخص میں لالچ بھر بھر کر ابھر رہا تھا، اس نے جواب دیا، کہ تیسری روٹی میں نے کھا لی۔۔۔جب سب ساتھیوں نے یہ سنا، تو وہ حیران رہ گۓ، اور عیسی علیہ سلام نے اس شخص کو کہا، یہ تینوں سکے تمھارے اور اپنے راستے جاو، اب تم ہمارے ساتھی نہیں رہے، اس شخص نے بڑے غرور سے کہا کہ جاو جاو، ہمارے راستے الگ، چونکہ اسکے پاس تین سونے کے سکے ہیں اور اب وہ بہت امیر ہے، جیسے ہی عیسی علیہ سلام اور اسکے ساتھی وہاں سے نکلے، تین چور آے اور انہوں نے اس شخص کو قتل کردیا، اور تین سکے آپس میں بھانٹ لیۓ، انہوں نے ایک کو قریبی بازار کھانے لانے بھیجا، اور دو وہی بیٹھ کر انتظار کرنے لگے، جب یہ چور گیا کھانے لانے، باقی دونوں نے اسے مار کر اسکا سکہ حاصل کرنے کرنے کا پلان بنایا، جبکہ تیسرے چور نے انکو قتل کرنے اور ان کے سکے حاصل کرنے کے لیۓ کھانے میں زہر ملا دیا، جب وہ آیا، تو ادو چوروں اسکو قتل کردیا، اور خود کھانے سے لطف اندوز ہوگۓ، کچھ دیر میں وہ دونوں بھی ادھر ہی مر گۓ، اور وہی تین سونے کے سکے ادھر ہی رہ گۓ۔۔۔ کچھ دیر بعد جب عیسی علیہ سلام اور اس کے ساتھی اسی راستے واپس آرہے تھے، تو انہوں نے دیکھا، کہ ان کا ساتھی جس نے سونے کے سکے لیۓ تھے، مردہ پڑا ہے، قریب ہی تین چور اور وہی تین سونے کے سکے۔۔۔ عیسی علیہ سلام نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا اور کہا۔۔۔


۔۔۔یہ ہے دنیا کی زندگی۔۔۔


۔۔۔جو لوگ اس دنیا کی زندگی کے پھیچے بھاگتے ہیں، یہ انکا ایسا حال کردیتی ہے۔۔۔

آپ بھاگتے رہو گے، بھاگتے رہو گے، لیکن سب کچھ پیچھے چھوڑو گے،جتنا دولت کمانا ہے، جتنی دنیا کمانی ہے سب کچھ پیچھے ہی چھوڑ کر اس دنیا سے جانا ہے۔
انسان سارا وقت اپنے خالق کو بھول کر، اس کی عبادت کو بھول کر، اپنی زندگی کے اصل مقصد کو بھول کر دنیاوی چیزوں کی حصول میں لگا ہوتا ہے، یہاں تک کہ دنیا کو حاصل کرتے کرتے اسے موت آجاتی ہے، تو وہ دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت کو بھی کھو دیتا ہے۔ 

بروز حشر اللہ ہم سے یہ نہیں پوچھے گا، کہ ہم نے کتنی دنیا حاصل کی، بلکہ یہ پوچھے گا، کہ میں نے تمہیں زندگی دی؟ تم نے کس میں گزاری؟ کیا تم نے میری عبادت کی؟ کیا تم نے میرے احکامات مانے؟ تو اس وقت وہ لوگ جو اس دنیا کے مزو اور عیش و عشرت میں ڈوبے ہیں ان کے پاس کوئ جواب نہیں ہوگا، اور ان کے لیے جہنم کی آگ کا دردناک عذاب ہوگا۔

اس کے علاوہ جس نے اس زندگی کے اصل مقصد کو پہچان لیا، دنیا میں اپنی آخرت سنھورنے کے لیے کوشش کی، اللہ کی عبادت کی، ان کے احکامات کو مان لیا، اس کے رسول کی سنت کو اپنایا اور قران کی تعلیمات کو زندگی میں لایا تو ان کے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنتیں ہے، جہاں یہ لوگ عیش وعشرت میں ہونگے، جس کا وعدہ اللہ نے قران میں کیا ہے، اور یہ لوگ دنیا کی زندگی میں بھی سکون کے ساتھ اور کامیاب ہونگے۔


For more related visit "About Life" tag below.