ایک بزرگ کسی دریا کے کنارے ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں رہتے تھے، ایک دفعہ اس کے پاس ایک نوجوان گیا، جو کہ حق کا متلاشی تھا، اس نے بزرگ سے سوال کیا، بابا جی بتائیے کے بھلا قرآن پاک پڑھنے سے دل کا زنگ کیسے اترتا ہے، جبکہ ہمیں سمجھ بھی نہیں آتا؟

بزرگ اپنے سوچ و فکر میں گم تھا، اس کو نوجوان کی بات سنائ نہیں دی، اس نوجوان نے دو تین مرتبہ سوال پوچا، تو بزرگ گہرے اسعقراق سے بیزار ہوکر بولا۔۔۔

جاؤ وہاں کونے میں ایک کوئلے کی بالٹی پڑی ہے، اس میں سے کوئلہ نکالوں، اور بالٹی کو قریبی دریا سے بھر کر لاؤ۔

جوان چونکہ بہت باادب تھا، اپنے سوال کے اسطرح عجیب جواب پر جز بز ہوگیا، لیکن احترام کی وجہ سے اس نے جا کر بالٹی اٹھائ اور دریا کی طرف روانہ ہوا، کوئلوں کی وجہ سے بالٹی اندر سے سیاہ اور باہر سے صاف تھی۔

جیسے ہی نوجوان نے دریا سے پانی لیا، اور بالٹی اٹھا کر واپس چلا تو اسے معلوم ہوا کہ بالٹی میں سراخ ہیں، جن سے پانی جھونپڑی تک پہنچتے پہنچتے سارا بہہ گیا، وہ اندر داخل ہوا، بزرگ نے سارا ماجرا سنا اور اسے بولا دوبارہ جا۔

نوجوان سمجھ گیا کے بزرگ کی بات میں کوی نہ کوی حکمت ہوگی۔ لہذا وہ دوبارہ دریا کی طرف چل پڑا۔

دوبارہ پانی بھرا اور پھر وہی ہوا، کہ پانی پہنچانے سے پہلے سارا بہہ گیا، بزرگ نے پھر ماجرہ سنا اور نوجوان کو کہا، کہ دوبارہ جا۔

نوجوان نے اسی طرح کئی چکر کاٹے، جب تھک گیا، تو بزرگ کو کہنے لگا، کہ آپ کیوں میرے ساتھ ایسا سلوک کر رہے ہیں، جبکہ آپ دیکھ رہے ہیں کے بالٹی میں پانی کسی بھی طرح سے نہیں آسکتا۔

بزرگ مسکرایا، اور بولا، زرا بالٹی کو اندر سے دیکھوں ، کیا یہ ویسے ہی سیاہ ہے، جیسے پہلے چکر میں تو نے اسے دیکھا تھا۔ نوجوان نے بالٹی کو دیکھا اور کہا، نہیں اب تو یہ بلکل صاف ہے، اتنی بار پانی جو بھرا ہے اس میں۔

بزرگ مسکرا کر بولا، پانی نہیں پہنچا لیکن اس کی صفت نے بالٹی کو سیاہ سے سفید کردیا۔

یہی قرآن کی صفت ہے، تو اس کو پڑھتا جا، پڑھتا جا، اس کے صفات تیرے دل کے زنگ کو اس میں موجود دنیا کے سوراخوں کے زریعے بہا کر لے جاۓ گی۔ اس کے بعد دل صاف ستھرا ہوکر، دنیا کی زنگ سے پاک ہوکر تجھے ہمیشہ ہمیشہ کے لیۓ اللہ سے جوڑ دے گا۔

دنیا میں کوئ بھی کام ہو، اگر اس کو محنت اور مسلسل لگن کے ساتھ کیا جاۓ تو اللہ صحیح راستہ اور منزل عطا کر دیتا ہے۔



For More Related Visit "Islam" tag below.