ایک دفعہ ایک شکاری نے چڑیا پکڑنے کے لیۓ جال بچایا، اتفاقاً ایک چڑیا اس میں پھنس گئ اور شکاری نے اسے پکڑ لیا۔ چڑیا نے شکاری سے کہا، اے انسان تو نے کئ بڑے شکار کھاۓ ہیں، ان سب کے بدلے میں میری کیا وقعت ہے، میرے جسم میں تو تھوڑا سا گوشت ہے، اس سے تو تمھارا پھیٹ بھی نہیں بھرے گا، لیکن اگر تم مجھے آزاد کردو تو میں تمھیں ایسی تین نصیحتیں کرونگی جس پر عمل کر کے تمھارے لیۓ بہت مفید ہوگا، ان میں سے ایک نصیحت میں ابھی کرونگی، اور دوسری جب تم مجھے چھوڑ دو گے اور میں سامنے دیوار پر جا بیٹھونگی اور تیسری نصیحت جب 
میں دیوار سے اُٹھ کر سامنے درخت کے شاخ پر بیٹھونگی



اس شخص کے دل میں تجسس اور دماغ میں بچار آیا کہ نہ جانے چڑیا ایسی کونسی نصیحتین کرے گی، اس نے چڑیا سے کہا، تم مجھے پہلی نصیحت کرو، پھر میں تمھہیں چھوڑ دونگا۔




چنانچہ چڑیا نے کہا، میری پہلی نصیحت یہ ہے، کہ (جو چیز یا بات کبھی نہیں ہوسکتی اسکا کبھی یقین نا کرنا)، یہ سن کر اس آدمی نے چڑیا کو چھوڑ دیا اور وہ دیوار پر جا بیٹھی۔




پھر چڑیا نے کہا، میری دوسری نصیحت یہ ہے، کہ (جو بات ہوجاۓ اسکا غم نہ کرنا)۔




اور پھر کہنے لگی کہ اے انسان تو نے مجھے چھوڑ کر بڑی غلطی کردی، میرے پیٹھ کے اندر ایک قیمتی پتھر ہے، اگر تم مجھے زبح کرلیتے تو وہ تمھیں مل جاتا اور اس موتی کو فروخت کر کے تمھارے پاس اتنا دولت آتا کہ تمھارے آنے والے نسلوں کے لیۓ کافی ہوتا، اور تم بڑے رئیس بن جاتے، اس شخص نے جب یہ بات سنی تو افسوس کرنے لگا، اور بہت پچتایا، کہ اس چڑیا کو چھوڑ کر میں نے زندگی کی سب سے بڑی غلطی کر دی، اگر اسے نا چھوڑتا تو میری نسلیں سنور جاتی۔




چڑیا نے اس آدمی کو اس حالت میں دیکھا، تو وہ اُڑ کر اک شاخ پر جا بیٹھی اور بولی، اے بھلے مانس ابھی میں نے تمھیں پہلی نصیحت کی (کہ جو چیز یا بات نا ہونے والی ہو اسکا یقین نہیں کرنا) جو کہ تم بھول گۓ، میں اک چھٹاک بر وزن رکھنے والی چڑیا اپنے اندر موتی کسطرح لے اڑونگی، کیا یہ ممکن ہے؟ میری دوسری نصیحت کہ (جو بات ہوجاۓ اسکا غم نہ کرنا), لیکن تم نے اس پر بھی کوئ عمل نا کیا اور افسوس اور پچھتاوے میں مبتلاء ہوۓ، تمھیں کوئ بھی نصیحت کرنا بیکار ہے، تم نے کب میری دو نصیحتوں پر عمل کیا، جو تیسری پر کروگے، تم نصیحت کے قابل نہیں۔




یہ بول کر چڑیا پھر سے اڑی اور پرواز کرنے لگی، وہ شخص ادھر ہی کھڑا رہا، اور چڑیا کی باتوں پر غور و فکر کرتے ہوۓ سوچوں میں کھو گیا۔




وہ لوگ خوش نصیب ہوتے ہیں، جنہیں کوئ نصیحت کرنے والا ہو، ہم اکثر خود کو عقل قل بہت سمجھدار سمجھتے ہوۓ اپنے مخلص ساتھیوں اور بزرگوں کی نصیحتوں پر کان نہیں دھرتے، اور بعد میں نقصان ہمارا ہی ہوتا ہے۔




یہ نصیحتیں صرف کہنے کی باتیں نہیں ہوتی کہ کسی نے کہ دیا اور ہم نے سن لیا، بلکہ دانائ اور دوسروں کی تجربات سے حاصل ہونے والے انمول اثاثے ہوتے ہیں، جو یقینً ہمارے لیۓ مشعل راہ ہوتی ہیں، اگر ہم ان پر عمل پیراں ہوجاۓ




For more similar visit "AboutLife" tag below.