ایک دفعہ کا زکر ہے، کہ ایک بادشاہ تھا اس نے ایک دن اپنے وزیر سے پوچھا، کہ تمھاری زندگی کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے، وزیر شرمایا اور سر نیچا کیا، بادشاہ نے بولا گبھراؤ نہیں اور بتاؤ۔ وزیر انتہائ عاجزی سے بولا حضور آپ دنیا کے ا یک خوبصورت ترین سلطنت کے مالک ہے، میں جب بھی یہ سب دیکھتا ہوں تو میرے دل میں جواہش پیدا ہوتی ہے، کہ اگر اس کا دسواں حصہ ہوتا تو میں دنیا کا خوش نصیب انسان ہوتا، بادشاہ نے بولا اگر میں تمھیں اپنی آدھی سلطنت دے دو تو ؟ وزیر نے حیران ہوکر بولا، بادشاہ سلامت یہ کیسے ممکن ہے، میں اتنا خوش قسمت کیسے ہوسکتا ہوں۔

بادشاہ نے فوراً اپنے سیکٹری کو بلایا اور اسے دو احکامات لکھنے کا بولا، پہلا حکم میں اپنی آدھی سلطنت وزیر کے نام کرنے کا فرمان جاری کردیا، دوسرے حکم میں بادشاہ نے وزیر کا سر قلم کرنے کا فرمان جاری کیا۔

بادشاہ نے دونوں۔احکامات پر مہر لگایا اور وزیر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا تمھارے پاس صرف 30 دن ہے، ان 30 دنوں میں تم نے 3 سوالوں کے جواب مجھے دینے ہے، اگر تم ایسا نہ کر سکے تو دوسرا حکم لاگو اور پہلا منسوخ ہوگا، اور اگر کامیاب ہوے تو دوسرا منسوخ اور پہلا لاگو ہوگا، وزیر یہ سن کر بہت پریشان ہوا۔

بادشاہ نے کہا کے میرے سوالات کچھ  یہ ہیں۔

انسان کی زندگی کی سب سے بڑی سچائ کیا ہے؟

انسان کی زندگی کا سب سے بڑا دھوکا کیا ہے؟

انسان کی زندگی کی سب سے بڑی کمزوری کیا ہے؟

بادشاہ نے اس کے بعد آواز لگائ اور بولا، تمھارا وقت شروع ہوتا ہے اب۔ وزیر دربار سے دوڑ نکلا اوراس نے ملک بھر کے زہین، دانشور، ادیب اور عالم اکٹھے کیۓ۔ اور ان سے ان سوالات کے بارے میں دریافت کیا۔ سب کے سب دن بھر بحث کرتے رہے لیکن کوئ بھی خاطر خواہ جواب نا دے سکے۔ اس نے مزید تعداد بڑھائ لیکن اسے کوئ تسلی بخس جواب نا مل سکا۔ یہاں تک کے وہ پورے ملک گھوما اور۔کہیں سے جواب نہیں ملا۔ پورا مہینہ مارا مارا پھرتا رہا، یہاں تک کے آخری دن آپہنچا اور اس نے دربار میں پیش ہونا تھا۔ اب سے یقین ہوگیا تھا کہ کل اسکا سر کاٹ دیا جاۓ گا۔

اب وہ سلطنت کی کچی آبادی کی طرف پہنچ گیا، وہاں اس نے دیکھا کہ اک ویرانی میں اک فقیر کی جھونپڑی ہے، جیسے ہی وہ پہنچا اس نے دیکھا، فقیر سوکھی روٹھی پانی میں ڈبو کر کھا رہا ہے، ساتھ میں ایک دودھ کا پیالہ تھا جس میں سے فقیر کا کتا دودھ پی رہا تھا، فقیر کی نظر وزیر پر پڑتے ہی اس نے قہقہہ لگایا اور کہا، جناب عالی آپ صحیح جگہ پہنچے ہیں، آپ کے تینوں سوالوں کے جواب میرے پاس موجود ہے۔ وزیر حیران ہوا اور پوچھا تمہیں کیسے پتہ چلا کہ میں کون ہوں اور میرا مسلہ کیا ہے۔ فقیر مسکرایا اور اس نے روٹی ایک طرف رکھی اور اپنا بسترا اٹھایا اور وزیر کو بولا، یہ دیکھیں، جیسے ہی وزیر نے دیکھا، تو بسترے کے نیچھے شاہی لباس بچھا ہوا تھا۔ یہ وہ لباس تھا جو بادشاہ اس وقت اپنے سب سے قریب اور جانے پہچانے وزیر کو دیتا تھا۔ فقیر نے بولا کہ میں بھی اسی سلطنت کا وزیر ہوا کرتا تھا، میں نے بھی ایک دفعہ بادشاہ سے شرط لگانے کی غلطی کی تھی، وزیر نے حیران ہو کر پوچھا، کیا تم بھی جوابات تلاش کرنے میں ناکام ہوۓ تھے؟

فقیر نے جواب دیا، کہ میرا کیس آپسے بلکل مختلف تھا، میں نے جواب ڈھونڈ لیۓ تھے اور مجھے آدھی سلطنت بھی ملی تھی، لیکن میں نے سلطنت بادشاہ کو واپس کی اور یہاں آکر اس جھونپڑی میں بسنے لگا، اب میں اور میرا کتا بہت مطمئن زندگی گزار رہے ہیں۔

وزیر یہ سب سن کر حیران رہ گیا، اور پھر پوچھا کہ کیا تم مجھے جوابات بتا سکتے ہو، فقیر نے کہا، میں دو سوالات کے جوابات مفت میں بتاؤنگا، لیکن تیسرے کے لیۓ تمہیں قیمت ادا کرنی ہوگی۔ 

فقیر بولا۔۔۔ (دنیا کی سب سے بڑی سچائ موت ہے)۔
انسان کوئ بھی ہوں، جیسا بھی ہوں، کہیں بھی ہو اس سچائ سے نہیں بچ سکتا، اس نے مرنا ہے۔

پھر فقیر بولا۔۔۔ (انسان کی زندگی کا سب سے بڑا دھوکا زندگی ہے)۔
ہم میں سے ہر شخص اسے دائمی سمجھ کر اس کے دھوکے میں آجاتا ہے۔

یہ جوابات ناقابل تردید تھے، وزیر بہت خوش ہوا، اس نے تیسرے جواب کے لیۓ فقیر سے شرط پوچھ لی، فقیر  مسکرایا اور اس نے کتے کے سامنے سے دودھ کا پیالہ آٹھایا اور وزیر کے ہاتھ میں دیا اور کہا کہ میں تب تک جواب نہیں دونگا، جب تک آپ اس پیالے سے دودھ نہیں پیتے۔ وزیر کے ماتھے پر پسینہ آیا، اس نے نفرت سے وہ پیالہ زمین پر رکھا اور کہا کہ میں کتے کا جھوٹا نہیں پی سکتا۔ فقیر نے کہا ٹھیک ہے یہ اب آپکی مرضی ہے، یا تو کل تمھارا سر اڑایا جاے گا اور یا تم یہ کتے کا جھوٹا دودھ پیو گے۔ وزیر نہایت ہی شک و شکنج میں مبتلا ہوا اور بہت دیر تک یہ سوچتا رہا کہ اک طرف زندگی اور آدھی سلطنت اور دوسی طرف کتے کا جھوٹا دودھ۔ بہر حال اس کے پاس وقت بہت کم تھا۔ یہاں تک کے اس نے وہ پیالہ اٹھایا اور پورا پی لیا۔

فقیر نے قہقہہ لگایا اور بولا۔۔۔ (انسان کی زندگی کی سب سے بڑی کمزوری غرض ہے)۔
یہ اسے کتے کا جھوٹا بھی پینے پر مجبور کر دیتی ہے۔

 یہی وہ چیز ہے جسنے مجھے سلطنت سے اٹھا کر اس جھونپڑی میں لا کر رکھ دیا، میں جانتا تھا کہ جوں جوں زندگی کے دھوکے میں آؤنگا اتنا ہی میں غرض کے دلدل میں پھنستا چلا جاونگا۔ اور جتنا میں موت کو فراموش کرونگا، اتنا ہی مجھے کتے کا غلیظ دودھ پینا پڑے گا۔

وزیر انتہائ شرمندہ ہوا، اسے جوابات مل تو گۓ لیکن اسکا سر شرم سے جکھ گیا، جھونپڑی سے محل کی طرف نکلا،  وہ اب جتنا محل کے قریب ہورہا تھا، اسکے اندر احساس شرمندگی اور بڑھ رہی تھی، وہ بڑھتے ہوۓ احساس زلت کے ساتھ محل کے دروازے پر پہنچا ہی تھا، کہ وہ اچانک گوڑے سے گرا اس نے گہری ہچکی لی، لیکن اس کی روح اس دارِ فانی سے پرواز کر گئ۔

اگر ہم زندگی کی ان سچائیوں کو اچھی طرح جان لیں اور ان کو عمل میں لاۓ تو ہم دنیا و آخرت دونوں میں سرخرو ہونگے۔



For More Related Visit "AboutLife" Tag below.